Thursday, 15 March 2018

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں


عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں

یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی
جو کی ہے ماں نے تو پھر بد دعا سے مر جائیں

یہ احتجاج سمندر کے دم کو کافی ہے
کسی کنارے پہ دو چار پیاسے مر جائیں

فسادیوں کو میں اس شرط پر رہا کروں گا
کہ فاختہ کے پروں کی ہوا سے مر جائیں

تو اپنے لہجے کی رقت کو تھوڑا کم کر دے
فقیر ! لوگ نہ تیری صدا سے مر جائیں

اٹھا کے پھرتے ہیں ہم آپ صرف نام تو لیں
قسم سے آپ تو کاسے کی 'کا' سے مر جائیں

راکب مختار

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...