سرخ سنہری پیلی کی ایجاد ہوئی
تجھ کو دیکھ کے چھتری کی ایجاد ہوئی
تجھ کو دیکھ کے چھتری کی ایجاد ہوئی
تجھ کو دریا پار سے دیکھا کرتے تھے
پھر بستی میں کشتی کی ایجاد ہوئی
پھر بستی میں کشتی کی ایجاد ہوئی
میں نے تیرے ہاتھ پہ اپنا نام لکھا
اور دنیا میں تختی کی ایجاد ہوئی
اور دنیا میں تختی کی ایجاد ہوئی
ہم نے پہلا گھر سنسار بسایا تھا
تالے کی اور چابی کی ایجاد ہوئی
تالے کی اور چابی کی ایجاد ہوئی
صحن میں اور کمرےمیں کتنی دوری تھی
دروازے اور کھڑکی کی ایجاد ہوئی
دروازے اور کھڑکی کی ایجاد ہوئی
تیرا جسم زمیں پر میلا ہوتا تھا
تخت بنا اور کرسی کی ایجاد ہوئی
تخت بنا اور کرسی کی ایجاد ہوئی
تیرے وصل سے گرمی کو آغاز ملا
تیرے ہجر سے سردی کی ایجاد ہوئی
تیرے ہجر سے سردی کی ایجاد ہوئی
اک دن مجھ کو اپنے آپ سے عشق ہوا
اور پسلی سے لڑکی کی ایجاد ہوئی
اور پسلی سے لڑکی کی ایجاد ہوئی
تجھ سے پہلے سب کچھ سب کا ہوتا تھا
تو آئی خودغرضی کی ایجاد ہوئی
تو آئی خودغرضی کی ایجاد ہوئی
No comments:
Post a Comment