Thursday, 15 March 2018

سرخ سنہری پیلی کی ایجاد ہوئی تجھ کو دیکھ کے چھتری کی ایجاد ہوئی

سرخ سنہری پیلی  کی ایجاد ہوئی
تجھ کو دیکھ کے چھتری کی ایجاد ہوئی
تجھ کو دریا پار سے دیکھا کرتے تھے
پھر بستی میں  کشتی کی  ایجاد  ہوئی
میں نے تیرے ہاتھ پہ اپنا نام لکھا
اور دنیا میں تختی کی ایجاد ہوئی
ہم نے پہلا گھر سنسار بسایا تھا
تالے کی اور چابی کی ایجاد ہوئی
صحن میں اور کمرےمیں کتنی دوری تھی
دروازے اور کھڑکی کی  ایجاد  ہوئی
تیرا جسم زمیں پر میلا ہوتا تھا
تخت بنا اور کرسی کی ایجاد ہوئی
تیرے وصل سے گرمی کو آغاز ملا
تیرے ہجر سے سردی کی ایجاد ہوئی
اک دن مجھ  کو اپنے آپ سے عشق ہوا
اور پسلی سے لڑکی کی ایجاد ہوئی

تجھ سے پہلے سب کچھ سب کا ہوتا تھا
تو آئی خودغرضی  کی ایجاد ہوئی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...