وہ دبدبہ نہ اجالا نہ شان و شوکت ہے
تمہارے سامنے بے اختیار ہے سورج
تمہارے سامنے بے اختیار ہے سورج
بچھڑ گئی ہے کہیں چاندنی اندھیرے میں
اُسی کی یاد میں یوں بے قرار ہے سورج
اُسی کی یاد میں یوں بے قرار ہے سورج
جہاں میں اس کا بھی شاید کوئی ٹھکانہ نہیں
مری طرح سے غریب الدّیار ہے سورج
مری طرح سے غریب الدّیار ہے سورج
خلا میں اور بھی روشن کئی ستارے ہیں
تمہارے فن کا مگر شاہکار ہے سورج
تمہارے فن کا مگر شاہکار ہے سورج
یہ اور بات سحر کو نہ کر سکا آزاد
لڑا تو رات سے مردانہ وار ہے سورج
لڑا تو رات سے مردانہ وار ہے سورج
بلند ہم نے کیا تھا علم بغاوت کا
ہمارے خون سے ہی داغدار ہے سورج
ہمارے خون سے ہی داغدار ہے سورج
نہیں کریں گے کوئی ساز باز اس کے خلاف
دفع ہو رات ہمارا تو یار ہے سورج
دفع ہو رات ہمارا تو یار ہے سورج
یہ چاند تارے سبھی اُس کے ہاں ملازم ہیں
بہت بڑا کوئی سرمایہ دار ہے سورج
بہت بڑا کوئی سرمایہ دار ہے سورج
کسی نے رات کو پھر اس سے بات کی ہو گی
پھر آج غصہ میں جلتا شرار ہے سورج
پھر آج غصہ میں جلتا شرار ہے سورج
چلو یہاں سے کہیں اور اب کریں ہجرت
یہاں تو سر پہ ہمیشہ سوار ہے سورج
یہاں تو سر پہ ہمیشہ سوار ہے سورج
کہیں پہ ایک بھڑکتا ہوا جہنّم ہے
کہیں پہ صرف محبت ہے پیار ہے سورج
کہیں پہ صرف محبت ہے پیار ہے سورج
بڑے بڑوں کو یہاں سے اکھاڑ ڈالا ہے
اگرچہ یوں تو نحیف و نزار ہے سورج
اگرچہ یوں تو نحیف و نزار ہے سورج
کہیں اٹھا کے اسے اب سنبھال کر رکھو
گئے دنوں کی کوئی یاد گار ہے سورج
گئے دنوں کی کوئی یاد گار ہے سورج
خلا میں تاکہ وہ ہارے نہ حوصلہ اپنا
زمیں کے نام کسی کی پکار ہے سورج
زمیں کے نام کسی کی پکار ہے سورج
کہیں پہ بیٹھ کے آرام کیوں نہیں کرتا
ہوا کے گھوڑے پہ ہر دم سوار ہے سورج
ہوا کے گھوڑے پہ ہر دم سوار ہے سورج
نیا ستارہ کوئی آسماں سے ٹوٹا ہے
کئی دنوں سے بہت سوگوار ہے سورج
کئی دنوں سے بہت سوگوار ہے سورج
ہمیشہ ڈرتے ہوئے اس سے ملنے جاتا ہوں
نہ جانے نور ہے تیرا کہ نار ہے سورج
نہ جانے نور ہے تیرا کہ نار ہے سورج
احمد فواد
No comments:
Post a Comment