Friday, 16 March 2018

ملنے کو میں اس کے نئی تدبیر کروں گا خط اور طرح کا اسے تحریر کروں گا اکبر حمیدی

ملنے کو میں اس کے نئی تدبیر کروں گا
خط اور طرح کا اسے تحریر کروں گا
ہے شیخ کی دستارِ فضیلت مرا موضوع
میں شہر کے ہر چوک میں تقریر کروں گا
ہاتھوں میں مرے لوح و قلم آئیں گے جس روز
تقدیر کو تدبیر سے زنجیر کروں گا
آئیں گے اسے دیکھنے بلقیس و سلیماں
اک شہر نئی طرز کا تعمیر کروں گا
تاخیر بھی اندھیرے کی اک شکل نہیں کیا
اندھیر کروں گا نہ میں تاخیر کروں گا
میرے ہی قبیلے کے جوانان جری تھے
وہ میر ہوں غالب ہوں میں توقیر کروں گا
اک خواب جو آنکھوں میں لئے پھرتا ہوں اکبرؔ
اس خواب کی میں آپ ہی تعبیر کروں گا

اکبر حمیدی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...