ملنے کو میں اس کے نئی تدبیر کروں گا
خط اور طرح کا اسے تحریر کروں گا
خط اور طرح کا اسے تحریر کروں گا
ہے شیخ کی دستارِ فضیلت مرا موضوع
میں شہر کے ہر چوک میں تقریر کروں گا
میں شہر کے ہر چوک میں تقریر کروں گا
ہاتھوں میں مرے لوح و قلم آئیں گے جس روز
تقدیر کو تدبیر سے زنجیر کروں گا
تقدیر کو تدبیر سے زنجیر کروں گا
آئیں گے اسے دیکھنے بلقیس و سلیماں
اک شہر نئی طرز کا تعمیر کروں گا
اک شہر نئی طرز کا تعمیر کروں گا
تاخیر بھی اندھیرے کی اک شکل نہیں کیا
اندھیر کروں گا نہ میں تاخیر کروں گا
اندھیر کروں گا نہ میں تاخیر کروں گا
میرے ہی قبیلے کے جوانان جری تھے
وہ میر ہوں غالب ہوں میں توقیر کروں گا
وہ میر ہوں غالب ہوں میں توقیر کروں گا
اک خواب جو آنکھوں میں لئے پھرتا ہوں اکبرؔ
اس خواب کی میں آپ ہی تعبیر کروں گا
اس خواب کی میں آپ ہی تعبیر کروں گا
اکبر حمیدی
No comments:
Post a Comment