Saturday, 17 March 2018

وہ سخی ہے تو کسی روز بلا کر لے جائے اور مجھے وصل کے آداب سکھا کر لے جائے

وہ سخی ہے تو کسی روز بلا کر لے جائے
اور مجھے وصل کے آداب سکھا کر لے جائے

میرے اندر کسی افسوس کی تاریکی ہے
اس اندھیرے میں کوئی آگ جلا کر لے جائے

یہ مری روح میں ندی کی تھکن کیسی ہے
وہ سمندر کی طرح آئے بہا کر لے جائے

ہجر میں جسم کے اسرار کہاں کھلتے ہیں
اب وہی سحر کرے پیار سے آکر لے جائے

خاک آنکھوں میں ہے وہ خواب کہاں ملتا ہے
جو مجھے قید مناظر سے رہا کر لے جائے

ساقی فاروقی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...