سورج کے پاس دھوپ نہ پانی ندی کے پاس
مٹی کا ایک جسم ہے خالی سبھی کے پاس
مٹی کا ایک جسم ہے خالی سبھی کے پاس
کیا حادثہ ہوا کہ نشاں تک نہیں بچا
پہلے تو ایک گھر تھا یہاں اس گلی کے پاس
پہلے تو ایک گھر تھا یہاں اس گلی کے پاس
کیوں پتھروں سے پھوڑ کے سر بیٹھ جائیے
کیوں زندگی کو دیکھئے بےچارگی کے پاس
کیوں زندگی کو دیکھئے بےچارگی کے پاس
آنکھیں اگر نہ بھیگیں تو ہرگز غزل نہ ہو
اگتے ہیں پیڑ پودے ہمیشہ نمی کے پاس
اگتے ہیں پیڑ پودے ہمیشہ نمی کے پاس
الزام جتنا چاہیں لگائیں خوشی سے آپ
کب گندگی پہنچتی ہے پاکیزگی کے پاس
کب گندگی پہنچتی ہے پاکیزگی کے پاس
آنسو، چبھن، مصیبتیں، دکھ درد، *ویدنا
ہر دل کی *سمپداہے میری شاعری کے پاس
ہر دل کی *سمپداہے میری شاعری کے پاس
وہ پیڑ کیسا دھوپ میں تپ کر نکھر گیا
سایہ مسافروں کو ملا بس اسی کے پاس
سایہ مسافروں کو ملا بس اسی کے پاس
٭٭
*ویدنا: درد، تکلیف
*سمپدا: املاک
*ویدنا: درد، تکلیف
*سمپدا: املاک
شیلیش زیدی
No comments:
Post a Comment