Thursday, 15 March 2018

سورج کے پاس دھوپ نہ پانی ندی کے پاس مٹی کا ایک جسم ہے خالی سبھی کے پاس

سورج کے پاس دھوپ نہ پانی ندی کے پاس
مٹی کا ایک جسم ہے خالی سبھی کے پاس
کیا حادثہ ہوا کہ نشاں تک نہیں بچا
پہلے تو ایک گھر تھا یہاں اس گلی کے پاس
کیوں پتھروں سے پھوڑ کے سر بیٹھ جائیے
کیوں زندگی کو دیکھئے بےچارگی کے پاس
آنکھیں اگر نہ بھیگیں تو ہرگز غزل نہ ہو
اگتے ہیں پیڑ پودے ہمیشہ نمی کے پاس
الزام جتنا چاہیں لگائیں خوشی سے آپ
کب گندگی پہنچتی ہے پاکیزگی کے پاس
آنسو، چبھن، مصیبتیں، دکھ درد، *ویدنا
ہر دل کی *سمپداہے میری شاعری کے پاس
وہ پیڑ کیسا دھوپ میں تپ کر نکھر گیا
سایہ مسافروں کو ملا بس اسی کے پاس
٭٭
*ویدنا: درد، تکلیف
*سمپدا: املاک

شیلیش زیدی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...