Thursday, 15 March 2018
جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا یہ کُل مِلا کر بھی ہجر کی رات میرے گِریے سے کم بنے گا
جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا
یہ کُل مِلا کر بھی ہجر کی رات میرے گِریے سے کم بنے گا
میں دشت ہوں' یہ مغالطہ ہے' نہ شاعرانہ مبالغہ ہے
مِرے بدن پر کہیں قدم رکھ کے دیکھ ' نقشِ قدم بنے گا
ہمارا لاشہ بہاو ورنہ لحَــد مقدّس مزار ہو گی
یہ سرخ کُرتا جلاؤ ورنہ' بغاوتوں کا علَم بنے گا
تو کیوں نہ ہم پان سات دن تک مزید سوچیں بنانے سے قبل !
مِری چَھٹی حِس بتا رہی ہے، یہ رشتہ ٹوٹے گا، غم بنے گا
مجھ ایسے لوگوں کا ٹیڑھ پَن قدرتی ہے' سو اعتراض کیسا؟
شدید نم خاک سے جو پیکر بنے گا' یہ طے ہے' خم بنے گا
سنا ہوا ہے ۔۔۔ جہاں میں بے کار کچھ نہیں ہے' سو جی رہے ہیں
بنا ہوا ہے یقیں کہ اِس رایگانی سے کچھ اہَــم بنے گا
کہ شاہ زادے کی عادتیں دیکھ کر سبھی اِس پہ متّفق ہیں
یہ جوں ہی حاکِم بنا، محَل کا وســیع رقبہ حرم بنے گا
میں ایک ترتیب سے لگاتا رہا ہوں اب تک سکوت اپنا
صدا کے وقفے نکال' اِس کو شروع سے سُن، ردھم بنے گا !
سفید رومال جب کبوتر نہیں بنا تو وہ شعبدہ باز
پلٹنے والوں سے کہہ رہا تھا، رکو ! خدا کی قسَم ! بنے گا
( عُمیــر نجــمـیؔ )
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment