Thursday, 15 March 2018
تری تلاش کی میٹھی کسک سے لطف لیا یقین توڑنے والے نے شک سے لطف لیا
تری تلاش کی میٹھی کسک سے لطف لیا
یقین توڑنے والے نے شک سے لطف لیا
سو ماند پڑتے ہوۓ حسن کو کیا تسلیم
کہ آفتاب کی دھندلی چمک سے لطف لیا
ترے نفس کی حرارت ہوئی نظر انداز
ترے لباس کی بھینی مہک سے لطف لیا
تمام عمر ترے در پہ ہی پڑے رہے ہیں
تمام عمر ترے ہی نمک سے لطف لیا
وہ انتظار تھا اس کا کہ دیکھتے ہی اسے
ذرا قریب کیا پورے حق سے لطف لیا
سید ضامن عباس
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment