Saturday, 24 March 2018

خوشبو کے سلسلے دے یا آہٹ کی راہ بخش تو چاہتا ہے تجھ سے ملیں تو نشان چھوڑ

خوشبو کے سلسلے دے یا آہٹ کی راہ بخش
تو چاہتا ہے تجھ سے ملیں تو نشان چھوڑ
میں چاہتا ہوں اپنا سفر اپنی کھوج بین
اس بار میرے سر پہ کھلا آسمان چھوڑ
کیوں روکتا ہے مجھ کو اشاروں سے بار بار
سچ سننا چاہتا ہے تو میری زبان چھوڑ
مجھ کو پتہ چلے تو یہاں کون ہے میرا
آ سامنے تو میری طرف کھل کے بان چھوڑ

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...