اِک نفس، نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں
گمشدہ چیزوں کے اندر لاپتا رہتا ہوں میں
گمشدہ چیزوں کے اندر لاپتا رہتا ہوں میں
جتنی باتیں یاد آتی ہیں، وہ لکھ لیتا ہوں سب
اور پھر ایک ایک کرکے، بھولتا رہتا ہوں میں
اور پھر ایک ایک کرکے، بھولتا رہتا ہوں میں
گرم جوشی نے مجھے جُھلسا دیا تھا، ایک دن
اندروں کے سرد خانے میں پڑا رہتا ہوں میں
اندروں کے سرد خانے میں پڑا رہتا ہوں میں
خرچ کردیتا ہوں سب موجود اپنے ہاتھ سے
اور ناموجود کی دُھن میں لگا رہتا ہوں میں
جتنی گہرائی ہے عادل،ؔ اُتنی ہی تنہائی ہے
بس کہ سطحِ زندگی پر تیرتا رہتا ہوں میں
بس کہ سطحِ زندگی پر تیرتا رہتا ہوں میں
ذوالفقار عادل
No comments:
Post a Comment