کیوں چاٹ نہ لوں خاک در یار ذرا سی
اکسیر ہے اکسیر کی مقدار ذرا سی
اندیشہ ہے اک صاحب تقو'ی کی نظر کا
مے چھوڑ دیا کرتے ہیں مے خوار ذرا سی
اے شوخ غضب ہے ترے ابرو کا اشارہ
کیا دیکھئے کرتی ہے یہ تلوار ذرا سی
سو ٹکڑے کروں دل کے تو لے کوئی خریدار
وہ کہتے ہیں یہ جنس ہے درکار ذرا سی
ساقی مجھے ترسا کے پلاتا ہے مئے ناب
اک بار بہت سی نہیں ہر بار ذرا سی
کہتا ہے وہ ہم داغ کو دل میں نہیں رکھتے
میں چاہوں جگہ دے مجھے دل دار ذرا سی
داغ دہلوی ..
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment