Tuesday, 20 March 2018

اندیشہ ہے اک صاحب تقو'ی کی نظر کا مے چھوڑ دیا کرتے ہیں مے خوار ذرا سی

کیوں چاٹ نہ لوں خاک در یار ذرا سی
اکسیر ہے اکسیر کی مقدار ذرا سی

اندیشہ ہے اک صاحب تقو'ی کی نظر کا
مے چھوڑ دیا کرتے ہیں مے خوار ذرا سی

اے شوخ غضب ہے ترے ابرو کا اشارہ
کیا دیکھئے کرتی ہے یہ تلوار ذرا سی

سو ٹکڑے کروں دل کے تو لے کوئی خریدار
وہ کہتے ہیں یہ جنس ہے درکار ذرا سی

ساقی مجھے ترسا کے پلاتا ہے مئے ناب
اک بار بہت سی نہیں ہر بار ذرا سی

کہتا ہے وہ ہم داغ کو دل میں نہیں رکھتے
میں چاہوں جگہ دے مجھے دل دار ذرا سی
داغ دہلوی  ..

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...