Monday, 19 March 2018

میں عمر کے نہیں کونین کے سفر میں ہوں کسی زیاں سے کبھی میں نہیں ملول ہوا افتاب اقبال شمیم

دلوں پہ شوق اطاعت کا وہ نزول ہوا
کہا جو اُس نے وہی شہر کا اصول ہوا

فنا کے بعد پیامِ بقا بھی لایا ہے
یہ پھول کل جو اسی راستے کی دھول ہوا

گرفتِ فیصلہ میں آ کے کیا سے کیا ہو جائے
ابھی وہ مثلِ شرر تھا، ابھی وہ پھول ہوا

میں اس کی راکھ کے صدقے، اُڑا دیا جس نے
وجود،جس کے لئے جبر نا قبول ہوا

میں عمر کے نہیں کونین کے سفر میں ہوں
کسی زیاں سے کبھی میں نہیں ملول ہوا

افتاب اقبال شمیم

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...