Sunday, 25 March 2018

یوں محبت سے نہ ہم خانہ بدوشوں کو بلا اتنے سادہ ہیں کہ گھر بار اٹھا لائیں گے

کب کہاں کیا مرے دل دار اٹھا لائیں گے
وصل میں بھی دل بے زار اٹھا لائیں گے

چاہیئے کیا تمہیں تحفے میں بتا دو ورنہ
ہم تو بازار کے بازار اٹھا لائیں گے

یوں محبت سے نہ ہم خانہ بدوشوں کو بلا
اتنے سادہ ہیں کہ گھر بار اٹھا لائیں گے

ایک مصرعے سے زیادہ تو نہیں بار وجود
تم پکاروگے تو ہر بار اٹھا لائیں گے

گر کسی جشن مسرت میں چلے بھی جائیں
چن کے آنسو ترے غم خوار اٹھا لائیں گے

کون سا پھول سجے گا ترے جوڑے میں بھلا
اس شش و پنج میں گلزار اٹھا لائیں گے

عطا ترابؔ💕

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...