Monday, 26 March 2018

تمام لوگ محبت کے امتحان میں ہیں مگر وہ عکس جو آئینے کی امان میں ہیں



تمام لوگ محبت کے امتحان میں ہیں
مگر وہ عکس جو آئینے کی امان میں ہیں

ہمی‍ں ابھی سے شکستہ خراب و خستہ نہ جان
دونیم اشک ہمارے ابھی کمان میں ہیں

نگاہ فرش پہ ہو دل میں ہو علی کی ولا
تمام تر صفتیں میرے خاندان میں ہیں

اسے یہ کون بتائے چٹان سخت نہیں
شگفتِ گل کے علائم اسی چٹان میں ہیں

وہ یہ نہ سمجھے ہمیں سرکشی کا بھاؤ نہیں
تمام سلسلے اس کے ہمارے دھیان میں ہیں

تھرک رہے ہیں زمانے اسی کی دھن پہ عقیل
کچھ ایسے تان پلٹ فجر کی اذان میں ہیں

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...