اجڑے ہوئے گلشن میں کوئی پھول کھِلا دے
بے رنگ مِری ہستی کو گُل رنگ بنا دے
یہ قلب نشینی کا شرف تو نہ مجھے بخش
ادنیٰ ہے مِری ذات مجھے پاؤں میں جا دے
مضمر ہیں کئی راز مِرے گوشۂ دل میں
اس دل کو تجلّیٔ گہہِ طُور دِکھا دے
بیدار ہوجائیں مِرے خوابیدہ عناصر
مُژدہ مِرے کانوں کو مسیحا وہ سنا دے
مَیں زیرِ فلک اور تُو ہے عرش سے بالا
اے طیرِ تفکّر ذرا مجھ کو بھی اُڑا دے
آتا ہے مِرے لہجۂ عریاں سے اگر خوف
تو خود کو تہہِ ارض کے دامن میں چھپا دے
میں روح کو پگھلا کے تری سانس میں بھردوں
کچھ ایسی حرارت لبِ تشنہ میں جگا دے
پوشیدہ گُہر دستِ طلب کی نہیں زینت
چاہے تو سمندر کے سمندر ہی بہادے
دیرینہ محبّت بھی ہے خواب اور خیال آج
گہوارۂ آغوش میں تُو مجھ کو سلا دے
بے کیف و مسرّت ہے مِرا عہدِ جوانی
اے گردشِ ایّام مجھے طفل بنا دے
مصطفی عبیر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment