Tuesday, 27 March 2018

یہ قلب نشینی کا شرف تو نہ مجھے بخش ادنیٰ ہے مِری ذات مجھے پاؤں میں جا دے

اجڑے ہوئے گلشن میں کوئی پھول کھِلا دے
بے رنگ مِری ہستی کو گُل رنگ بنا دے

یہ قلب نشینی کا شرف تو نہ مجھے بخش
ادنیٰ ہے مِری ذات مجھے پاؤں میں جا دے

مضمر ہیں کئی راز مِرے گوشۂ دل میں
اس دل کو تجلّیٔ گہہِ طُور دِکھا دے

بیدار ہوجائیں مِرے خوابیدہ عناصر
مُژدہ مِرے کانوں کو مسیحا وہ سنا دے

مَیں زیرِ فلک اور تُو ہے عرش سے بالا
اے طیرِ تفکّر ذرا مجھ کو بھی اُڑا دے

آتا ہے مِرے لہجۂ عریاں سے اگر خوف
تو خود کو تہہِ ارض کے دامن میں چھپا دے

میں روح کو پگھلا کے تری سانس میں بھردوں
کچھ ایسی حرارت لبِ تشنہ میں جگا دے

پوشیدہ گُہر دستِ طلب کی نہیں زینت
چاہے تو سمندر کے سمندر ہی بہادے

دیرینہ محبّت بھی ہے خواب اور خیال آج
گہوارۂ آغوش میں تُو مجھ کو سلا دے

بے کیف و مسرّت ہے مِرا عہدِ جوانی
اے گردشِ ایّام مجھے طفل بنا دے

مصطفی عبیر

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...