Wednesday, 28 March 2018

تو اپنے لہجے کی رقت کو تھوڑا کم کر دے فقیر لوگ نہ تیری صدا سے مر جائیں


عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی
جو کی ہے ماں نے تو پھر بد دعا سے مر جائیں
یہ احتجاج سمندر کے دم کو کافی ہے
کسی کنارے پہ دو چار پیاسے مر جائیں
فسادیوں کو میں اس شرط پر رہا کروں گا
کہ فاختہ کے پروں کی ہوا سے مر جائیں
تو اپنے لہجے کی رقت کو تھوڑا کم کر دے
فقیر لوگ نہ تیری صدا سے مر جائیں
اٹھا کے پھرتے ہیں ہم آپ صرف نام تو لیں
قسم سے آپ تو کاسے کی ”کا“ سے مر جائیں

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...