Saturday, 31 March 2018

مقروض کے بگڑے ہوئے حالات کی مانند مجبور کے ہونٹوں پہ سوالات کی مانند۔


مقروض کے بگڑے ہوئے حالات کی مانند
مجبور کے ہونٹوں پہ سوالات کی مانند۔۔
دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
سیلاب سے برباد مکانات کی مانند۔۔
دل روز سجاتا ہوں میں کسی دلہن کی طرح
غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند۔ ۔
اب یہ بھی نہیں یاد کیا نام تھا اس کا
جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند۔ ۔
کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش
معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند۔ ۔
اس شخص سے ملنا محسن میرا ممکن ہی نہیں
میں پانی ہوں دریا کا وہ صحرا کی مانند۔ ۔

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...