اس زخم جان کے نام ، جو اب تک نہیں بھرا۔
اس زندہ دل کے نام ، جو اب تک نہیں مرا
۔
ان اہل دل کے نام ، جو راھوں کی دھول ہیں۔
ان حوصلوں کے نام جنہیں دکھ قبول ہیں ۔
اس زندگی کے نام ، گزارا نہیں جسے۔
اس قرض فن کے نام ، اتارا نہیں جسے۔
ان دوستوں کے نام ، جو گوشہ نشیں ہیں۔
ان بے حسوں کے نام ، جو یار زمین ہیں۔
ان بے دلوں کے نام ، جو ہر دم ملول ہیں۔
ان بےبسوں کے نام ، جو گملوں کے پھول ہیں۔
ان شعلہ رخ کے نام ، روشن ہے جس سے رات۔
ہے ضوفشاں اندھیرے میں ہر نقطہ کتاب۔
اس حسن باکمال کی رعنائیوں کے نام۔
اور اپنے ذہن و قلب کی تنہائیوں کے نام۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...

No comments:
Post a Comment