Tuesday, 3 April 2018

اس زخم جان کے نام ، جو اب تک نہیں بھرا۔ اس زندہ دل کے نام ، جو اب تک نہیں مرا

اس زخم جان کے نام ، جو اب تک نہیں بھرا۔
اس زندہ دل کے نام ، جو اب تک نہیں مرا
۔

ان اہل دل کے نام ، جو راھوں کی دھول ہیں۔
ان حوصلوں کے نام جنہیں دکھ قبول ہیں ۔

اس زندگی کے نام ، گزارا نہیں جسے۔
اس قرض فن کے نام ، اتارا نہیں جسے۔

ان دوستوں کے نام ، جو گوشہ نشیں ہیں۔
ان بے حسوں کے نام ، جو یار زمین ہیں۔

ان بے دلوں کے نام ، جو ہر دم ملول ہیں۔
ان بےبسوں کے نام ، جو گملوں کے پھول ہیں۔

ان شعلہ رخ کے نام ، روشن ہے جس سے رات۔
ہے ضوفشاں اندھیرے میں ہر نقطہ کتاب۔

اس حسن باکمال کی رعنائیوں کے نام۔
اور اپنے ذہن و قلب کی تنہائیوں کے نام۔

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...