دل ہی توڑ دیا دل آزاری کر دی
تو نے بھی رقیبوں کی طرف داری کر دی
تو نے بھی رقیبوں کی طرف داری کر دی
نہ پچھلوں کی ہمدردی ہے نہ آگے کوئی واقف
یہ تو نے کس موڑ پہ غداری کر دی
یہ تو نے کس موڑ پہ غداری کر دی
کس قدر بے رحمی سے پھوڑی ہیں آنکھیں
نور چھین لیا خوابوں کی مسماری کر دی
نور چھین لیا خوابوں کی مسماری کر دی
میں نے یونہی بات کی تھی بچھڑنے کی
تم نے فوراً ہی شروع عملداری کر دی
تم نے فوراً ہی شروع عملداری کر دی
قسم رب کی تاحیات نہیں بھولیں گے ہم
کہ جتنی آج تو نے ہماری کر دی
کہ جتنی آج تو نے ہماری کر دی
اک غلطی ہوئی ہم سے تجھ کو چاہنے کی
اور یہ غلطی بھی ہم نے بہت بھاری کر دی
اور یہ غلطی بھی ہم نے بہت بھاری کر دی
جاوید مہدی
No comments:
Post a Comment