Thursday, 12 April 2018

قسم رب کی تاحیات نہیں بھولیں گے ہم کہ جتنی آج تو نے ہماری کر دی


دل ہی توڑ دیا دل آزاری کر دی
تو نے بھی رقیبوں کی طرف داری کر دی
نہ پچھلوں کی ہمدردی ہے نہ آگے کوئی واقف
یہ تو نے کس موڑ پہ غداری کر دی
کس قدر بے رحمی سے پھوڑی ہیں آنکھیں
نور چھین لیا خوابوں کی مسماری کر دی
میں نے یونہی بات کی تھی بچھڑنے کی
تم نے فوراً ہی شروع عملداری کر دی
قسم رب کی تاحیات نہیں بھولیں گے ہم
کہ جتنی آج تو نے ہماری کر دی
اک غلطی ہوئی ہم سے تجھ کو چاہنے کی
اور یہ غلطی بھی ہم نے بہت بھاری کر دی
جاوید مہدی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...