دیکھنے کو کوئی تیار نہیں ہے بھائی
دشت بھی بے در و دیوار نہیں ہے بھائی
دشت بھی بے در و دیوار نہیں ہے بھائی
ایسا بھی صدق و صفا کا نہیں دعویٰ ہم کو
زندگی شیخ کی دستار نہیں ہے بھائی
زندگی شیخ کی دستار نہیں ہے بھائی
پاکبازوں کی یہ بستی ہے فرشتوں کا نگر
کوئی اس شہر میں میخوار نہیں ہے بھائی
کوئی اس شہر میں میخوار نہیں ہے بھائی
جان پیاری ہے تو بس چلتے چلے جاؤ میاں
کیوں کھڑے ہو یہ در یار نہیں ہے بھائی
کیوں کھڑے ہو یہ در یار نہیں ہے بھائی
عشق کرنا ہے تو چُھٹی نہیں کرنی کوئی
عشق میں ایک بھی اتوار نہیں ہے بھائی
عشق میں ایک بھی اتوار نہیں ہے بھائی
آپ نے بھی تو کیا ہو گا کچھ اکبرؔ ورنہ
ایسی اس شوخ کی گفتار نہیں ہے بھائی
ایسی اس شوخ کی گفتار نہیں ہے بھائی
No comments:
Post a Comment