Thursday, 12 April 2018

ایسا بھی صدق و صفا کا نہیں دعویٰ ہم کو زندگی شیخ کی دستار نہیں ہے بھائی


دیکھنے کو کوئی تیار نہیں ہے بھائی
دشت بھی بے در و دیوار نہیں ہے بھائی
ایسا بھی صدق و صفا کا نہیں دعویٰ ہم کو
زندگی شیخ کی دستار نہیں ہے بھائی
پاکبازوں کی یہ بستی ہے فرشتوں کا نگر
کوئی اس شہر میں میخوار نہیں ہے بھائی
جان پیاری ہے تو بس چلتے چلے جاؤ میاں
کیوں کھڑے ہو یہ در یار نہیں ہے بھائی
عشق کرنا ہے تو چُھٹی نہیں کرنی کوئی
عشق میں ایک بھی اتوار نہیں ہے بھائی
آپ نے بھی تو کیا ہو گا کچھ اکبرؔ ورنہ
ایسی اس شوخ کی گفتار نہیں ہے بھائی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...