اُنھیں اُنکا ہمیں اپنا اِسے ہم دِین کہتے ہیں
مگر پھر ہر کسی کو مجرمِ توہین کہتے ہیں
کڑے ایمان کی بستی پہ رشوت راج کرتی ہے
ضمیروں کی اِسی کو مشترک تدفین کہتے ہیں
تجھے تیری زباں میٹھی لگے لگتی رہے واعظ
مگر میری لغت میں تو اِسے سکّین کہتے ہیں
عجب یہ ہے مخالف بھی ہمیں تب داد دیتے ہیں
کہ جب ہم صورتِ حالات کو سنگین کہتے ہیں
ہم اپنی گفتگو کو شاعری خود بھی نہیں کہتے
اِسے ہم بھینس کے آگے سریلی بِین کہتے ہیں
'مسلسل بھوک میں ہم سے عبادت ہو نہیں پاتی'
ذرا سنیے تو کیا اِس شہر کے مسکین کہتے ہیں
کتابوں کی نہیں یہ تجربے کی بات ہے صاحب
پیئے ہیں اشک ہم نے اسلئے نمکین کہتے ہیں
ہمیں اِس شہپری کی شہہ کوئی دے کر گیا ہوگا
اِسی کارن ہم اپنے آپ کو شاہین کہتے ہیں
ہمارا نام سائیں ہے مگر احباب اکثر ہی
ہمیں جب ذکر میں لاتے ہیں تو غمگین کہتے ہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment