Wednesday, 18 April 2018

کتابوں کی نہیں یہ تجربے کی بات ہے صاحب پیئے ہیں اشک ہم نے اسلئے نمکین کہتے ہیں

اُنھیں اُنکا ہمیں اپنا اِسے ہم دِین کہتے ہیں
مگر پھر ہر کسی کو مجرمِ توہین کہتے ہیں

کڑے ایمان کی بستی پہ رشوت راج کرتی ہے
ضمیروں کی اِسی کو مشترک تدفین کہتے ہیں

تجھے تیری زباں میٹھی لگے لگتی رہے واعظ
مگر میری لغت میں تو اِسے سکّین کہتے ہیں

عجب یہ ہے مخالف بھی  ہمیں تب داد دیتے ہیں
کہ جب ہم صورتِ حالات کو سنگین کہتے ہیں

ہم اپنی گفتگو کو شاعری خود بھی نہیں کہتے
اِسے ہم بھینس کے آگے سریلی بِین کہتے ہیں

'مسلسل بھوک میں ہم سے عبادت ہو نہیں پاتی'
ذرا سنیے تو کیا اِس شہر کے مسکین کہتے ہیں

کتابوں کی نہیں یہ تجربے کی بات ہے صاحب
پیئے ہیں اشک ہم نے اسلئے نمکین کہتے ہیں

ہمیں اِس شہپری کی شہہ کوئی دے کر گیا ہوگا
اِسی کارن ہم اپنے آپ کو شاہین کہتے ہیں

ہمارا نام سائیں ہے مگر احباب اکثر ہی
ہمیں جب ذکر میں لاتے ہیں تو غمگین کہتے ہیں

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...