مرے لشکر کے کماندار مرے قاتل تھے
مرے دشمن تو نہیں یار مرے قاتل تھے
میں نے خود خون دیا تیغ عدو کو ورنہ
بھری دنیا میں بڑے خوار مرے قاتل تھے
کتنا آساں تھا مرے قتل کا لمحہ ان پر
کیسی مشکل سے یہ دو چار مرے قاتل تھے
وہ مر ے نام کی دستار پہننے والے
وہ مرے حاشیہ بردار مرے قاتل تھے
کتنے مینار مرے قد کے مقابل لائے
مری عظمت سے خبردار مرے قاتل تھے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment