Tuesday, 17 April 2018

میں نے خود خون دیا تیغ عدو کو ورنہ بھری دنیا میں بڑے خوار مرے قاتل تھے

مرے لشکر کے کماندار مرے قاتل تھے
مرے دشمن تو نہیں یار مرے قاتل تھے

میں نے خود خون دیا تیغ عدو کو ورنہ
بھری دنیا میں بڑے خوار مرے قاتل تھے

کتنا آساں تھا مرے قتل کا لمحہ ان پر
کیسی مشکل سے یہ دو چار مرے قاتل تھے

وہ مر ے نام کی دستار پہننے والے
وہ مرے حاشیہ بردار مرے قاتل تھے

کتنے مینار مرے قد کے مقابل لائے
مری عظمت سے خبردار مرے قاتل تھے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...