Sunday, 15 April 2018

میں وجہِ ترکِ تعلق بتا تو دُوں ، لیکن اِس انکشاف سے اک خاندان ٹوٹتا ہے


زمیں سرکتی ہے ، پھر سائبان ٹوٹتا ہے
اور اُس کے بعد سدا آسمان ٹوٹتا ہے
میں اپنے آپ میں تقسیم ہونے لگتا ہُوں
جو ایک پَل کو کبھی تیرا دھیان ٹوٹتا ہے
کوئی پرند سا پَر کھولتا ہے اُڑنے کو
پھر اک چھناکے سے یہ خاکدان ٹوٹتا ہے
جسے بھی اپنی صفائی میں پیش کرتا ہُوں
وہی گواہ ، وہی مہربان ٹوٹتا ہے
نہ ہم میں حوصلہ خود کُشی ، کہ مر جائیں
نہ ہم سے قفلِ درِ پاسبان ٹوٹتا ہے
میں وجہِ ترکِ تعلق بتا تو دُوں ، لیکن
اِس انکشاف سے اک خاندان ٹوٹتا ہے
زکوٰۃِ عشق اگر بانٹنے پہ آ جاؤں
تو اک ہجومِ طلب مُجھ پہ آن ٹوٹتا ہے
کسی نے داغِ جدائی نہیں دیا ، لیکن
میں اتنا جانتا ہوں ، کیسے مان ٹوٹتا ہے
جو آندھیاں سرِ صحرائے ہجر اُٹھتی ہیں
اُنہی میں شیشہ دل ، میری جان ٹوٹتا ہے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...