زمیں سرکتی ہے ، پھر سائبان ٹوٹتا ہے
اور اُس کے بعد سدا آسمان ٹوٹتا ہے
اور اُس کے بعد سدا آسمان ٹوٹتا ہے
میں اپنے آپ میں تقسیم ہونے لگتا ہُوں
جو ایک پَل کو کبھی تیرا دھیان ٹوٹتا ہے
جو ایک پَل کو کبھی تیرا دھیان ٹوٹتا ہے
کوئی پرند سا پَر کھولتا ہے اُڑنے کو
پھر اک چھناکے سے یہ خاکدان ٹوٹتا ہے
پھر اک چھناکے سے یہ خاکدان ٹوٹتا ہے
جسے بھی اپنی صفائی میں پیش کرتا ہُوں
وہی گواہ ، وہی مہربان ٹوٹتا ہے
وہی گواہ ، وہی مہربان ٹوٹتا ہے
نہ ہم میں حوصلہ خود کُشی ، کہ مر جائیں
نہ ہم سے قفلِ درِ پاسبان ٹوٹتا ہے
نہ ہم سے قفلِ درِ پاسبان ٹوٹتا ہے
میں وجہِ ترکِ تعلق بتا تو دُوں ، لیکن
اِس انکشاف سے اک خاندان ٹوٹتا ہے
اِس انکشاف سے اک خاندان ٹوٹتا ہے
زکوٰۃِ عشق اگر بانٹنے پہ آ جاؤں
تو اک ہجومِ طلب مُجھ پہ آن ٹوٹتا ہے
تو اک ہجومِ طلب مُجھ پہ آن ٹوٹتا ہے
کسی نے داغِ جدائی نہیں دیا ، لیکن
میں اتنا جانتا ہوں ، کیسے مان ٹوٹتا ہے
میں اتنا جانتا ہوں ، کیسے مان ٹوٹتا ہے
جو آندھیاں سرِ صحرائے ہجر اُٹھتی ہیں
اُنہی میں شیشہ دل ، میری جان ٹوٹتا ہے
اُنہی میں شیشہ دل ، میری جان ٹوٹتا ہے
No comments:
Post a Comment