اگر انسان میں اپنی بقا کی چُل نہیں ہوتی
تو نسلِ آدمی یوں محوِ شور و غُل نہیں ہوتی
مِرے واعظ تجھے اِک بات کہنا تھی سو کہہ ڈالوں
کہ جو بس ایک انساں میں ہو عقلِ کُل نہیں ہوتی
جب آئے گی تو مَیں ہی کیا یہ سارا شہر دیکھے گا
جسے چند ایک ہی دیکھیں وہ فصلِ گُل نہیں ہوتی
چمن برباد ہو جانے کا منظر یوں بھی ہوتا ہے
کہ ہرسُو زاغ ہوتے ہیں کوئی بلبل نہیں ہوتی
پرندہ جانتا تھا کچھ نہ کچھ پانی ضروری ہے
فقط کنکر گرا دینے سے مٹکی فُل نہیں ہوتی
مِری برگشتہ حالی میں نہاں اِک راز یہ بھی ہے
کہ منصوبے تو بنتے ہیں مگر ہِل جُل نہیں ہوتی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment