Monday, 16 April 2018

جب آئے گی تو مَیں ہی کیا یہ سارا شہر دیکھے گا جسے چند ایک ہی دیکھیں وہ فصلِ گُل نہیں ہوتی

اگر انسان میں اپنی بقا کی چُل نہیں ہوتی
تو نسلِ آدمی یوں محوِ شور و غُل نہیں ہوتی

مِرے واعظ تجھے اِک بات کہنا تھی سو کہہ ڈالوں
کہ جو بس ایک انساں میں ہو عقلِ کُل نہیں ہوتی

جب آئے گی تو مَیں ہی کیا یہ سارا شہر دیکھے گا
جسے چند ایک ہی دیکھیں وہ فصلِ گُل نہیں ہوتی

چمن برباد ہو جانے کا منظر یوں بھی ہوتا ہے
کہ ہرسُو زاغ ہوتے ہیں کوئی بلبل نہیں ہوتی

پرندہ جانتا تھا کچھ نہ کچھ پانی ضروری ہے
فقط کنکر گرا دینے سے مٹکی فُل نہیں ہوتی

مِری برگشتہ حالی میں نہاں اِک راز یہ بھی ہے
کہ منصوبے تو بنتے ہیں مگر ہِل جُل نہیں ہوتی

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...