Tuesday, 17 April 2018

دشتِ ہجراں سے گزر آیا ہوں جیسے تیسے اب کوئی غم مجھے پاگل نہیں کرنے والا


ایسی غلطی سرِ مقتل نہیں کرنے والا
مَیں کوئی بات مدلل نہیں کرنے والا
ہر کوئی تاک میں ہے دوسرا مصرعہ کیا ہے
اور مَیں شعر مکمل نہیں کرنے والا
یہ جو درپیش ہے احساس کا سوکھا موسم
اِسکا درماں کوئی بادل نہیں کرنے والا
دشتِ ہجراں سے گزر آیا ہوں جیسے تیسے
اب کوئی غم مجھے پاگل نہیں کرنے والا
یہ مِرے اشک بخارات میں ڈھل جائیں گے
میں کسی راہ میں جل تھل نہیں کرنے والا
جِس پہ افشاں ہی نہیں شہر کی مشکل سائیں
کچھ بھی کر لے وہ مگر حل نہیں کرنے والا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...