ایسی غلطی سرِ مقتل نہیں کرنے والا
مَیں کوئی بات مدلل نہیں کرنے والا
مَیں کوئی بات مدلل نہیں کرنے والا
ہر کوئی تاک میں ہے دوسرا مصرعہ کیا ہے
اور مَیں شعر مکمل نہیں کرنے والا
اور مَیں شعر مکمل نہیں کرنے والا
یہ جو درپیش ہے احساس کا سوکھا موسم
اِسکا درماں کوئی بادل نہیں کرنے والا
اِسکا درماں کوئی بادل نہیں کرنے والا
دشتِ ہجراں سے گزر آیا ہوں جیسے تیسے
اب کوئی غم مجھے پاگل نہیں کرنے والا
اب کوئی غم مجھے پاگل نہیں کرنے والا
یہ مِرے اشک بخارات میں ڈھل جائیں گے
میں کسی راہ میں جل تھل نہیں کرنے والا
میں کسی راہ میں جل تھل نہیں کرنے والا
جِس پہ افشاں ہی نہیں شہر کی مشکل سائیں
کچھ بھی کر لے وہ مگر حل نہیں کرنے والا
کچھ بھی کر لے وہ مگر حل نہیں کرنے والا
No comments:
Post a Comment