Thursday, 26 April 2018

میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے

عکس کی صورت دکھا کر آپ کا ثانی مجھے
ساتھ اپنے لے گیا بہتا ہوا پانی مجھے

میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا
روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے

اس طرح قحط ہوا کی زد میں ہے میرا وجود
آندھیاں پہچان لیتی ہیں بہ آسانی مجھے

بڑھ گیا اس رت میں شاید نکہتوں کا اعتبار
دن کے آنگن میں لبھائے رات کی رانی مجھے

منجمد سجدوں کی یخ بستہ مناجاتوں کی خیر
آگ کے نزدیک لے آئی ہے پیشانی مجھے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...