کبھی ہنسی، کبھی آنسو کبھی غُبار ہوں میں
مجھے کھنگالو کہ جذبوں کا ریگ زار ہوں میں
بدن ہے کانچ کا لیکن محققو ٹھہرو
سنبھل کے ہاتھ لگانا کہ سنگسار ہوں میں
ہر التجا مجھے ٹھکرا کے لوٹ جاتی ہے
خلا میں کوئی معلق سا کوہسار ہوں میں
میں سب کے پاس ہوں پر کوئی میرے پاس نہیں
کسی تماشے یا سرکس کا اشتہار ہوں میں
سمٹ گیا ہوں تو اچھا ہے ٹھوس کی صورت
مجھے نہ چھیڑو کہ تخریب کا غبار ہوں میں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment