Friday, 27 April 2018

میں سب کے پاس ہوں پر کوئی میرے پاس نہیں کسی تماشے یا سرکس کا اشتہار ہوں میں

کبھی ہنسی، کبھی آنسو کبھی غُبار ہوں میں
مجھے کھنگالو کہ جذبوں کا ریگ زار ہوں میں

بدن ہے کانچ کا لیکن محققو ٹھہرو
سنبھل کے ہاتھ لگانا کہ سنگسار ہوں میں

ہر التجا مجھے ٹھکرا کے لوٹ جاتی ہے
خلا میں کوئی معلق سا کوہسار ہوں میں

میں سب کے پاس ہوں پر کوئی میرے پاس نہیں
کسی تماشے یا سرکس کا اشتہار ہوں میں

سمٹ گیا ہوں تو اچھا ہے ٹھوس کی صورت
مجھے نہ چھیڑو کہ تخریب کا غبار ہوں میں

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...