خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے
لفافے میں نہ رکھ لی نامہ بر میری زباں تو نے
مٹا کر رکھ دیے ہیں یوں ہزاروں بے زباں تو نے
نہ رکھا اپنے عہدِ ظلم کا کوئی نشاں تو نے
تجھ فوراَ ہی میرا قصہ روک دینا تھا
ترا دکھتا تھا دل تو کیوں سنی تھی داستاں تو نے
ہرے پھر کر دیے زخمِ جگر صیاد بلبل کے
قفس کے سامنے کہہ کر گلوں کی داستاں تو نے
اسی وعدے پہ کھائی تھی قسم روئے کتابی کی
اسی صورت میں قرآں کو رکھا تھا درمیاں تو نے
عدو کہتے ہیں اب سہرا فصاحت کا ترے سر ہے
قمر بالکل بنا دی ہے تو نے دلھن اردو زباں تو نے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment