Sunday, 29 April 2018

اس کو پردے کا تردد نہیں کرنا پڑتا ایسا چہرہ ہے کہ دیکھیں تو حیا آتی ہے

اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے
کہ جہاں خواب بھی ٹوٹے تو صدا آتی ہے

میں نے زندان میں سیکھا تھا، اسیروں سے، اک اِسم
جس کو دیوار پہ پھونکیں تو ہوا آتی ہے

خوب رونق تھی اِن آنکھوں میں، پھر اک خواب آیا
ایسے، جیسے کسی بستی میں وبا آتی ہے

لڑنے جاتے ہیں کہ کچھ مالِ غنیمت لے آئیں
اور پھر گھر کی طرف سرخ زرہ آتی ہے

اس کو پردے کا تردد نہیں کرنا پڑتا
ایسا چہرہ ہے کہ دیکھیں تو حیا آتی ہے

ٹھیک ہے، ساتھ رہو میرے، مگر ایک سوال
تم کو وحشت سے حفاظت کی دعا آتی ہے؟ :)

صحن میں پھرتی ہے برسوں کی سدھائی ہوئی یاد
جب بھی پُچکار کے کہتا ہوں کہ "آ"، آتی ہے!

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...