Monday, 30 April 2018

شہرت کے مول خوب لگے شہر میں مگر ہم محترم کہاں تھے جو کردار بیچتے

سر کو بچاتے یا درودیوار بیچتے
سر کی حفاظتوں میں کیا دستار بیچتے

شہرت کے مول خوب لگے شہر میں مگر
ہم محترم کہاں تھے جو کردار بیچتے

اس کانپتی زمیں نے سب خاک کر دیا
ورنہ ہم آرزؤں کے مینار بیچتے

ہوتا جو اختیار مرے ہاتھ میں تو پھر
بستے خرید لاتے یہ ہتھیار بیچتے

قانون کو جو سیماؔ سمجھ لیتے آج ہم
تو بھوک اور جہل کے آزار بیچتے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...