سر کو بچاتے یا درودیوار بیچتے
سر کی حفاظتوں میں کیا دستار بیچتے
شہرت کے مول خوب لگے شہر میں مگر
ہم محترم کہاں تھے جو کردار بیچتے
اس کانپتی زمیں نے سب خاک کر دیا
ورنہ ہم آرزؤں کے مینار بیچتے
ہوتا جو اختیار مرے ہاتھ میں تو پھر
بستے خرید لاتے یہ ہتھیار بیچتے
قانون کو جو سیماؔ سمجھ لیتے آج ہم
تو بھوک اور جہل کے آزار بیچتے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment