Monday, 30 April 2018

میں چل پڑا ہوں اندھیرے کی انگلیاں تھامے اترتی شام کے رخ کا جمال ایسا تھا

ہر ایک رنگ دھنک کی مثال ایسا تھا
شب وصال تمھارا جمال ایسا تھا

ہوا کے ہاتھ پہ چھالے ہیں آج تک موجود
مرے چراغ کی لو میں کمال ایسا تھا

میں چل پڑا ہوں اندھیرے کی انگلیاں تھامے
اترتی شام کے رخ کا جمال ایسا تھا

ذرا سی دیر بھی ٹھہرا نہیں ہوں موجوں میں
سمے کے بحر میں اب کے اچھال ایسا تھا

وہ سر اٹھائے یہاں سے پلٹ گیا آبشار
میں سر جھکائے کھڑا ہوں سوال ایسا تھا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...