Monday, 23 April 2018

"میں قامتِ نیزہ پہ بھی اٹّھا ہوا سر ہوں” سلطان! تری جیت مری ہار سے کم ہے


بیعت کی صدی لمحۂ انکار سے کم ہے
سردار! تری عمر سرِ دار سے کم ہے
اس بات پہ شاہد ہے یہ مشکیزہ ء خالی!
اک گھونٹ کی وقعت مرے پندار سے کم ہے
حق یہ ہے کہ اک نکتۂ پاراں کے سوا بھی
دربار میں جو کچھ ہے درِ یار سے کم ہے
میں خاک نشینوں کے نشاں دیکھنے والا
کرسی کی بلندی مرے معیار سے کم ہے
"میں قامتِ نیزہ پہ بھی اٹّھا ہوا سر ہوں”
سلطان! تری جیت مری ہار سے کم ہے
یہ وار مرے دل کے بہت پاس سے ہوگا
خطرہ ہے مگر غیر کی تلوار سے کم ہے
لگتا ہے زمانے کا چلن یوں ہی رہے گا
اس بار بھی قیمت مری ہر بار سے کم ہے
شکوہ ہے مگر کس سے ، یہ کچھ نہیں کھلتا
سچ یہ ہے کہ اس عشق کے آزار سے کم ہے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...