موج خوشــــبو کی طرح،، بات اُڑانے والے
تُجھ میں پہلے تو نہ تھے رنگ زمانے والے
تُجھ میں پہلے تو نہ تھے رنگ زمانے والے
کتنے ہیرے میری آنکھون سے چُرائے تو نے
چَند پتھر میری جھولی میں گِرانے والے
چَند پتھر میری جھولی میں گِرانے والے
خوں بہا اگلی بہاروں کا تیرے سر تو نہیں
خُشک ٹہنی پہ نیا پُھول کِھلانے والے
خُشک ٹہنی پہ نیا پُھول کِھلانے والے
آ تجھے نظر کروں اَپنی ہی شہہ رگ کا لہو
میرے دُشــــمں میری توقیر بڑھانے والے
میرے دُشــــمں میری توقیر بڑھانے والے
آستینوں میں چھپائے ہوئے خنجر آئے
مجھ سے یاروں کی طرح ہاتھ مِلانے والے
مجھ سے یاروں کی طرح ہاتھ مِلانے والے
ظلمتِ شب سے شکایت اُنہیں کیسی محسنؔ
وہ تو سُورج کو تھے آئینہ دکھانے والے
وہ تو سُورج کو تھے آئینہ دکھانے والے
No comments:
Post a Comment