Monday, 23 April 2018

کتنے ہیرے میری آنکھون سے چُرائے تو نے چَند پتھر میری جھولی میں گِرانے والے


موج خوشــــبو کی طرح،، بات اُڑانے والے
تُجھ میں پہلے تو نہ تھے رنگ زمانے والے
کتنے ہیرے میری آنکھون سے چُرائے تو نے
چَند پتھر میری جھولی میں گِرانے والے
خوں بہا اگلی بہاروں کا تیرے سر تو نہیں
خُشک ٹہنی پہ نیا پُھول کِھلانے والے
آ تجھے نظر کروں اَپنی ہی شہہ رگ کا لہو
میرے دُشــــمں میری توقیر بڑھانے والے
آستینوں میں چھپائے ہوئے خنجر آئے
مجھ سے یاروں کی طرح ہاتھ مِلانے والے
ظلمتِ شب سے شکایت اُنہیں کیسی محسنؔ
وہ تو سُورج کو تھے آئینہ دکھانے والے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...