Monday, 30 April 2018

جب سے دیکھا ہے ترے چہرے کو اس شہر کے لوگ! پھول باغیچہ و گلدان کہاں دیکھتے ہیں

جیت اور ہار کا امکان کہاں دیکھتے ہیں
گاؤں کے لوگ ہیں نقصان کہاں دیکھتے ہیں
جب سے دیکھا ہے ترے چہرے کو اس شہر کے لوگ!
پھول باغیچہ و گلدان کہاں دیکھتے ہیں
قیمتی شے تھی ترا ہجر اٹھائے رکھا
ورنہ سیلاب میں سامان کہاں دیکھتے ہیں
مجھ کو افلاک سے ہجرت کی صدا آتی ہے،
آدمی عشق میں زندان کہاں دیکھتے ہیں
عامرؔ اس تخت میں تابوت نظر آتا ہے
دیکھتے ہم ہیں یہ دربان کہاں دیکھتے ہیں

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...