Wednesday, 2 May 2018

سمجھو گے دل کی رمز مُجھی سے مگر ابھی تُم شوق پُورا کرلو، ذھینوں سے پُوچھ لو

لعل و گُہَر کہاں ھیں، دفینوں سے پُوچھ لو
سینوں میں کافی راز ھیں، سینوں سے پُوچھ لو

جَھیلا ھے مَیں نے تین سو پینسٹھ دُکھوں کا سال
چاھو تو پچھلے بارہ مہینوں سے پُوچھ لو

قبروں کے دُکھ سے کم نہیں کچّے گھروں کے دُکھ
تم زندہ لاشوں یعنی مکینوں سے پُوچھ لو

چوتھا گواہ اندھا ھے، حد کس طرح لگے ؟؟؟
عینی گواہ تین ھیں، تینوں سے پُوچھ لو

مَیں جُونہی بوئے بیج، شجر پُھوٹنے لگے
مُجھ پر یقیں نہیں تو زمینوں سے پُوچھ لو

ایک آدھ تو کرے گی ھی اقرار لازماً
دو تین چار پانچ حسینوں سے پُوچھ لو

سمجھو گے دل کی رمز مُجھی سے مگر ابھی
تُم شوق پُورا کرلو، ذھینوں سے پُوچھ لو

چِھن جائے گھر تو کیسے رُلاتی ھے بےگھری
ٹُوٹی انگوٹھیوں کے نگینوں سے پُوچھ لو

سچ سچ بتائیں گے وہ تمہیں ڈُوبنے کا لُطف
دریا کی تہہ میں غرق سفینوں سے پُوچھ لو

اپنے گُرو کے طور پہ لیں گے سب ایک نام
تُم شہر بھر کے سارے کمینوں سے پُوچھ لو

نیچے اُترتے وقت اُسے موچ آگئی
آگے کا سارا واقعہ زینوں سے پُوچھ لو

پوچھو نہ سجدہ گاہ سے سجدوں کی چاشنی
ھاں پوچھنا ھی ھے تو جبینوں سے پُوچھ لو

ڈستے ھیں کس ترنگ میں، پُھنکارتے ھیں کیوں
سانپوں کی نفسیات خزینوں سے پُوچھ لو

جو بات اھلِ عرش بھی بتلا نہیں سکے
 فارس ! وہ بات خاک نشینوں سے پُوچھلو

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...