لعل و گُہَر کہاں ھیں، دفینوں سے پُوچھ لو
سینوں میں کافی راز ھیں، سینوں سے پُوچھ لو
جَھیلا ھے مَیں نے تین سو پینسٹھ دُکھوں کا سال
چاھو تو پچھلے بارہ مہینوں سے پُوچھ لو
قبروں کے دُکھ سے کم نہیں کچّے گھروں کے دُکھ
تم زندہ لاشوں یعنی مکینوں سے پُوچھ لو
چوتھا گواہ اندھا ھے، حد کس طرح لگے ؟؟؟
عینی گواہ تین ھیں، تینوں سے پُوچھ لو
مَیں جُونہی بوئے بیج، شجر پُھوٹنے لگے
مُجھ پر یقیں نہیں تو زمینوں سے پُوچھ لو
ایک آدھ تو کرے گی ھی اقرار لازماً
دو تین چار پانچ حسینوں سے پُوچھ لو
سمجھو گے دل کی رمز مُجھی سے مگر ابھی
تُم شوق پُورا کرلو، ذھینوں سے پُوچھ لو
چِھن جائے گھر تو کیسے رُلاتی ھے بےگھری
ٹُوٹی انگوٹھیوں کے نگینوں سے پُوچھ لو
سچ سچ بتائیں گے وہ تمہیں ڈُوبنے کا لُطف
دریا کی تہہ میں غرق سفینوں سے پُوچھ لو
اپنے گُرو کے طور پہ لیں گے سب ایک نام
تُم شہر بھر کے سارے کمینوں سے پُوچھ لو
نیچے اُترتے وقت اُسے موچ آگئی
آگے کا سارا واقعہ زینوں سے پُوچھ لو
پوچھو نہ سجدہ گاہ سے سجدوں کی چاشنی
ھاں پوچھنا ھی ھے تو جبینوں سے پُوچھ لو
ڈستے ھیں کس ترنگ میں، پُھنکارتے ھیں کیوں
سانپوں کی نفسیات خزینوں سے پُوچھ لو
جو بات اھلِ عرش بھی بتلا نہیں سکے
فارس ! وہ بات خاک نشینوں سے پُوچھلو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment