Friday, 6 April 2018

کہیں چھپائے سے چھپتا ہے لعل گدڑی میں فروغ حُسن تجھے بے نقاب کر دے گا

سُنی نہیں یہ مثل گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے
تجھے تو دل کی خبر اضطراب کر دے گا

وہ گالیاں ہمیں دیں اور ہم دعائیں دیں
خجل انہیں یہ ہمارا جواب کر دے گا

کہیں چھپائے سے چھپتا ہے لعل گدڑی میں
فروغ حُسن تجھے بے نقاب کر دے گا 

وفا تو خاک کرے گا مرا عدو تم سے
وفا کے نام کی مٹی خراب کر دے گا

بھلائی اپنی ہے سب کی بھلائی میں بیخودؔ
کبھی ہمیں بھی خدا کامیاب کر دے گا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...