Tuesday, 3 April 2018
اگر آئے دشت میں جِھیل تو،مجھے احتیاط سے پھینکنا کہ میں برگِ خُشک ہُوں #دوستو ! مجھے تیرنا نہیں آئے گا
مِری داستانِ اَلم تو سُن ،کوئی زِلزِلہ نہیں آئے گا
مِرا مُدّعا نہیں آئے گا،تِرا تذکرہ نہیں آئے گا
کئی گھاٹیوں پہ مُحیط ہے،مِری زِندگی کی یہ رہگُزر
تِری واپسی بھی ہُوئی اگر،تجھے راستہ نہیں آئے گا
اگر آئے دشت میں جِھیل تو،مجھے احتیاط سے پھینکنا
کہ میں برگِ خُشک ہُوں #دوستو ! مجھے تیرنا نہیں آئے گا
کہِیں اِنتہا کی مَلامَتیں،کہِیں پتَھروں سے اَٹی چَھتَیں
تِرے شہر میں مِرے بعد اب، کوئی سر پِھرا نہیں آئے گا
کوئی اِنتظار کا فائدہ مِرے یار ! بیدلِ غمزدہ
تجھے چھوڑ کر جو چلا گیا ،نہیں آئے گا،نہیں آئے گا
بیدؔل حیدری
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment