Tuesday, 3 April 2018

میں نے حالانکہ بہت وقت گزارا ہے یہاں اب میں اس شہر میں پل بھر نہیں رہنے والا

نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا
دل میں یہ شور برابر نہیں رہنے والا

جس طرح خامشی لفظوں میں ڈھلی جاتی ہے
اس میں تاثیر کا عنصر نہیں رہنے والا

اب یہ کس شکل میں ظاہر ہو، خدا ہی جانے
رنج ایسا ہے کہ اندر نہیں رہنے والا

میں اسے چھوڑنا چاہوں بھی تو کیسے چھوڑوں؟
وہ کسی اور کا ہو کر نہیں رہنے والا

غور سے دیکھ ان آنکھوں میں نظر آتا ہے
وہ سمندر جو سمندر نہیں رہنے والا

جرم وہ کرنے کا سوچا ہے کہ بس اب کی بار
کوئی الزام مرے سر نہیں رہنے والا

میں نے حالانکہ بہت وقت گزارا ہے یہاں
اب میں اس شہر میں پل بھر نہیں رہنے والا

مصلحت لفظ پہ دو حرف نہ بھیجوں؟ جوادؔ
جب مرے ساتھ مقدر نہیں رہنے والا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...