نہیں ایسا بھی کہ یکسر نہیں رہنے والا
دل میں یہ شور برابر نہیں رہنے والا
جس طرح خامشی لفظوں میں ڈھلی جاتی ہے
اس میں تاثیر کا عنصر نہیں رہنے والا
اب یہ کس شکل میں ظاہر ہو، خدا ہی جانے
رنج ایسا ہے کہ اندر نہیں رہنے والا
میں اسے چھوڑنا چاہوں بھی تو کیسے چھوڑوں؟
وہ کسی اور کا ہو کر نہیں رہنے والا
غور سے دیکھ ان آنکھوں میں نظر آتا ہے
وہ سمندر جو سمندر نہیں رہنے والا
جرم وہ کرنے کا سوچا ہے کہ بس اب کی بار
کوئی الزام مرے سر نہیں رہنے والا
میں نے حالانکہ بہت وقت گزارا ہے یہاں
اب میں اس شہر میں پل بھر نہیں رہنے والا
مصلحت لفظ پہ دو حرف نہ بھیجوں؟ جوادؔ
جب مرے ساتھ مقدر نہیں رہنے والا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment