Saturday, 26 May 2018

ٹکرانے کے شوقیں ہیں تو آئیں بِسمِ اللہ ۔۔ ہاہا۔۔بڑے طاقت ور دِل دہلاۓ ہیں میں نے۔۔


سَر پھرے سارے چوکھٹ پر بیٹھاۓ ہیں میں نے۔۔
سب اپنی ہستی کے درباں بناۓ ہیں میں نے۔۔
تم کچھ بھی کہنا پر سوچ سمجھ کر اے صاحب۔۔
کئی سر اِس تخت کے نیچے دبواۓ ہیں میں نے۔۔
ٹکرانے کے شوقیں ہیں تو آئیں بِسمِ اللہ ۔۔
ہاہا۔۔بڑے طاقت ور دِل دہلاۓ ہیں میں نے۔۔
سب آٶ نفرت کو باہر رکھ کر کونے میں۔۔
بےچاروں کے زخم ابھی سِلواۓ ہیں میں نے۔۔
پاگل جو مجھ کو جھُک کے ملتے ہیں عالی جا۔۔
سب کے سب سر آنکھوں پر بیٹھاۓ ہیں میں نے..
دیکھو دیکھو تو خوشی کا عالم ہے ہر سُو۔۔
اُجڑے دِل جو پِھر سے یہاں پر بساۓ ہیں میں نے۔۔
تم ہوگے شاہ اپنے گھر کے تو ہو گے علوی۔۔
اس گھر پر پنجتنی جھنڈے لگواۓ ہیں میں نے..


No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...