سَر پھرے سارے چوکھٹ پر بیٹھاۓ ہیں میں نے۔۔
سب اپنی ہستی کے درباں بناۓ ہیں میں نے۔۔
سب اپنی ہستی کے درباں بناۓ ہیں میں نے۔۔
تم کچھ بھی کہنا پر سوچ سمجھ کر اے صاحب۔۔
کئی سر اِس تخت کے نیچے دبواۓ ہیں میں نے۔۔
کئی سر اِس تخت کے نیچے دبواۓ ہیں میں نے۔۔
ٹکرانے کے شوقیں ہیں تو آئیں بِسمِ اللہ ۔۔
ہاہا۔۔بڑے طاقت ور دِل دہلاۓ ہیں میں نے۔۔
ہاہا۔۔بڑے طاقت ور دِل دہلاۓ ہیں میں نے۔۔
سب آٶ نفرت کو باہر رکھ کر کونے میں۔۔
بےچاروں کے زخم ابھی سِلواۓ ہیں میں نے۔۔
بےچاروں کے زخم ابھی سِلواۓ ہیں میں نے۔۔
پاگل جو مجھ کو جھُک کے ملتے ہیں عالی جا۔۔
سب کے سب سر آنکھوں پر بیٹھاۓ ہیں میں نے..
سب کے سب سر آنکھوں پر بیٹھاۓ ہیں میں نے..
دیکھو دیکھو تو خوشی کا عالم ہے ہر سُو۔۔
اُجڑے دِل جو پِھر سے یہاں پر بساۓ ہیں میں نے۔۔
اُجڑے دِل جو پِھر سے یہاں پر بساۓ ہیں میں نے۔۔
تم ہوگے شاہ اپنے گھر کے تو ہو گے علوی۔۔
اس گھر پر پنجتنی جھنڈے لگواۓ ہیں میں نے..
اس گھر پر پنجتنی جھنڈے لگواۓ ہیں میں نے..
No comments:
Post a Comment