Saturday, 26 May 2018

ایک میں خاک تو دوجے میں اٹھا کر دولت پھینکنے والے ،ترے ہاتھ ترازو نکلے


جونہی گھبرا کے مری آنکھ سے آنسو نکلے
ماں کی تصویر سے بے ساختہ بازو نکلے
آپ کی ترش مزاجی بھی گوارا لیکن
بات جیسی ہو مگر امن کا پہلو نکلے
ایک میں خاک تو دوجے میں اٹھا کر دولت
پھینکنے والے ،ترے ہاتھ ترازو نکلے
میرے سردار نے کچھ ایسے مدینہ چھوڑا
جیسے ٹہنی پہ کھلے پھول سے خوشبو نکلے
میں نے مقتل میں جو یاروں کو صدا دی راکب
سر کہیں سے تو کہیں ریت سے بازو نکلے

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...