کبھی چراغ کبھی آفتاب لایا گیا
ہماری نیند میں یوں اضطراب لایا گیا
ہماری نیند میں یوں اضطراب لایا گیا
تراشِ جسم ہے گویا کہ اس بھکارن پر
شباب آیا نہیں تھا شباب لایا گیا
شباب آیا نہیں تھا شباب لایا گیا
ہمارے حکم کی تعمیل بعد میں کی گئی
ہماری میز پہ پہلے حساب لایا گیا
ہماری میز پہ پہلے حساب لایا گیا
زمیں پہ پہلے تو ایجاد کی گئی حیرت
فلک سے خاک پہ پھر بوتراب لایا گیا
فلک سے خاک پہ پھر بوتراب لایا گیا
کسی کے دل پہ اتارا گیا تمہارا وصل
کسی پہ ہجر کی صورت عذاب لایا گیا
کسی پہ ہجر کی صورت عذاب لایا گیا
تمہارے جسم کو خوشبو سے غسل دینا تھا
سو نورِ خلد سے دھو کر گلاب لایا گیا
سو نورِ خلد سے دھو کر گلاب لایا گیا
کسی کی آنکھ میں صحرا کی پیاس رکھی گئی
کسی کی آنکھ سے جامِ شراب لایا گیا
کسی کی آنکھ سے جامِ شراب لایا گیا
مجھے بٹھایا گیا آخری نشستوں پر
مرے خیال پہ یوں انقلاب لایا گیا
مرے خیال پہ یوں انقلاب لایا گیا
No comments:
Post a Comment