Wednesday, 9 May 2018

زمیں پہ پہلے تو ایجاد کی گئی حیرت فلک سے خاک پہ پھر بوتراب لایا گیا


کبھی چراغ کبھی آفتاب لایا گیا
ہماری نیند میں یوں اضطراب لایا گیا
تراشِ جسم ہے گویا کہ اس بھکارن پر
شباب آیا نہیں تھا شباب لایا گیا
ہمارے حکم کی تعمیل بعد میں کی گئی
ہماری میز پہ پہلے حساب لایا گیا
زمیں پہ پہلے تو ایجاد کی گئی حیرت
فلک سے خاک پہ پھر بوتراب لایا گیا
کسی کے دل پہ اتارا گیا تمہارا وصل
کسی پہ ہجر کی صورت عذاب لایا گیا
تمہارے جسم کو خوشبو سے غسل دینا تھا
سو نورِ خلد سے دھو کر گلاب لایا گیا
کسی کی آنکھ میں صحرا کی پیاس رکھی گئی
کسی کی آنکھ سے جامِ شراب لایا گیا
مجھے بٹھایا گیا آخری نشستوں پر
مرے خیال پہ یوں انقلاب لایا گیا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...