Wednesday, 9 May 2018
مجھے نہ طیش دلاؤ میں وہ قلندر ہوں کہ پتھروں کو بھی میں باکلام کر دُوں گا
میں اب کی بار کوئی ایسا کام کر دُوں گا
کہ حاسدین کی نیندیں حرام کر دُوں گا
دوبارہ پھر کہیں بَک بَک نہ کر سگیں گے وہ
مُنافقین کے مُنہ میں لگام کر دُوں گا
اگر اے شاہو بغاوت پہ میں اُتر آیا
تو تخت و تاج کا قِصّہ تمام کر دُوں گا
اے شہر والو دِیے مُجھ سے چھینو مت ورنہ
میں شہر بھر میں اندھیرے دوام کر دُوں گا
نہ میں خُدا ہُوں نہ مُرسل مگر زمیں والے
سبھی خُداؤں کو اپنا غلام کر دُوں گا
مجھے نہ طیش دلاؤ میں وہ قلندر ہوں
کہ پتھروں کو بھی میں باکلام کر دُوں گا
اِس ایک جُرم میں مَیں مارا جاؤُں گا لیکن
زمانے بھر میں محبت کو عام کر دُوں گا
میں قیدِ مذہب و مسلک سے بس نکل آؤُں
تو جو بھی سامنے آیا سلام کر دُوں گا
مجھے خبر ہے کہ باقرؔ بس ایک سچ کہہ کر
میں اپنے قتل کا خود انتظام کر دوں گا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment