Tuesday, 15 May 2018

میرے ارمان سے واقف نہیں ،شرمائیں گے آپ آپ کیوں کھاتے ہیں ناحق مرے ارماں کی قسم


آؤ بے پردہ! تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسم
ہم نہ چھیڑیں گے ،ہمیں زلف پریشاں کی قسم
چاک داماں کی قسم ،چاک گریباں کی قسم
ہنسنے والے تجھے اس حال پریشاں کی قسم
میرے ارمان سے واقف نہیں ،شرمائیں گے آپ
آپ کیوں کھاتے ہیں ناحق مرے ارماں کی قسم
نیند آئے نہ کبھی تجھ سے بچھڑ کر ظالم
اپنی آنکھوں کی قسم، تیرے شبستاں کی قسم
لب جاناں پہ فدا ،عارض جاناں کے نثار
شام رنگیں کی قسم، صبح درخشاں کی قسم

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...