Tuesday, 15 May 2018

موت وہ ساقی کہ جس کے کبھی تھکتے نہیں ہاتھ بھرتی جائے گی سدا جام وہ اک جام کے بعد


خواب کیا دیکھے کوئی نیند کے انجام کے بعد
کس کو جینے کی ہوس حشر کے ہنگام کے بعد
عشق نے سیکھ ہی لی وقت کی تقسیم کہ اب
وہ مجھے یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد
ایک ہی اسم کو بارش نے ہرا رکھا ہے
پیڑ پہ نام تو لکھّے گئے اُس نام کے بعد
ہندسے گِدھ کی طرح دن میرا کھا جاتے ہیں
حرف ملنے مجھے آتے ہیں ذرا شام کے بعد
موت وہ ساقی کہ جس کے کبھی تھکتے نہیں ہاتھ
بھرتی جائے گی سدا جام وہ اک جام کے بعد
تھک کے میں بیٹھ گئی اب مگر اے سایہ طلب
کس کی خیمے پہ نظر جاتی تھی ہرگام کے بعد

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...