Wednesday, 23 May 2018

جان دینے کے سبهی داو سکهائے ہیں اسے میرا شاگرد ہے! ناکام نہیں آ سکتا

تو ہے معصوم، مرے کام نہیں آ سکتا
تجھ پہ تو قتل کا الزام نہیں آ سکتا

جب یہ طے ہے کہ نہیں ہو گا کبھی ذکر ترا
گفتگو میں کوئی ابہام نہیں آ سکتا

پہلے بھجواؤ کوئی رات سی کالی چادر
میرا مہتاب، سرِ عام نہیں آ سکتا

ہائے اب ڈاکیہ بھی فون لیے پھرتا ہے
اب مرے دوست کا پیغام نہیں آ سکتا

مر کے بھی تم کو سکھا پاؤں گا میں کارِ وفا
چار دن میں تو میاں ! کام نہیں آ سکتا

پینے والوں سے گزارش ہے کہ اٹھ کے پی لیں
آج  گردش میں مرا جام نہیں آ سکتا

جان دینے کے سبهی داو سکهائے ہیں اسے
میرا شاگرد ہے! ناکام نہیں آ سکتا

نون غنہ بهی گرانا مجهے منظور نہیں
یعنی اس بحر میں وہ نام نہیں آ سکتا

ٹھہریے! میں ذرا اس دل کو کرا لوں خاموش
اوئے پاگل! تجھے آرام نہیں آ سکتا؟

شاعرو! حسرت دیدار بجا ہے لیکن
عید کا چاند تو ہر شام نہیں آ سکتا

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...