Wednesday, 23 May 2018
روز ہوتی ہے بات پھولوں سے لب ہیں؟ گل دان باندھ رکّھا ہے
یہ جو سامان باندھ رکّھا ہے
ایکــــ امکان باندھ رکّھا ہے
عشق زنجیرکب ہے ، پَیروں نے
تیرا احسان باندھ رکّھا ہے
روز ہوتی ہے بات پھولوں سے
لب ہیں؟ گل دان باندھ رکّھا ہے
اشک سمجھے ہو ، میں نے آنکھوں میں
دل کا نقصان باندھ رکّھا ہے
شعر کہتی ہیں اُس کی آنکھیں یوں
جیسے دیوان باندھ رکّھا ہے
اس کے لہجے کی چاشنی ، آ ہا
گویا ملتان باندھ رکّھا ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment