Thursday, 10 May 2018
کہتے ہیں اُس سے بچ کے گزرتی ہیں آندھیاں. جس قبر پر چراغ نہ جلتا ہو شام کو.
دریا مچل رہا ہے اگر انتقام کو.
میں بھی لکِھوں گا ریت پہ اب اپنے نام کو.
کہتے ہیں اُس سے بچ کے گزرتی ہیں آندھیاں.
جس قبر پر چراغ نہ جلتا ہو شام کو.
ساحل بھگو رہی تھی سخاوت فُرات کی.
گھیرا ہُوا تھا آگ نے میرے خیام کو.
بیدارئی ضمیرِ کفِ خاک حشر ہے.
سورج اُتر رہا ہے زمیں کے سلام کو.
تنقید کر کے میرے ہُنر کی اُڑان پر.
تسلیم کر رہا تھا وہ میرے مقام کو.
جو تیری منتظر تھیں وہ آنکھیں ہی بجھ گئیں.
اب کیوں سجا رہا ہے چراغوں سے بام کو.
رُوٹھی ہوُئی ہوائیں کہاں ہیں کہ دشت میں.
محسن ترس گئے ہیں بگولے. خرام کو
محسن نقوی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا
میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...
-
*۔۔۔۔۔۔۔۔کمال یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔* خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ہوا کی زد پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا *کمال یہ ہے۔* ...
-
سرّ ِ وحشت ہے، قدم کھینچ، اچٹ کر مت دیکھ منظرِ دشتِ غزل ہے اِسے کٹ کر مت دیکھ روشنی دھند کی چادر میں لپٹ سکتی ہے میں نے جگنو سےکہا تھا...
-
یوسف حسن کا حسن آپ خریدار رہا پہلے بازار ازل مصر کا بازار رہا ہوں میں وہ جنس کہ ہوں رونق بازار کساد ہوں وہ سودا کہ خریدار بھی بیزار رہا ...
No comments:
Post a Comment