Thursday, 10 May 2018

مری متاعِ تخیل پہ اک نگاہ کہ میں ابو تراب کی صف سے دورد بھیجتا ہوں

نعت سید لولاک احباب آپ سب کی نذر!

طلوعِ صبح کی صف سے درود بھیجتا ہوں
میں چشمِ اشک بکف سے درود بھیجتا ہوں

مرے شعور کی لکنت انھی کے دم سے کھلی
انھی کے فیض و شرف  سے  درود بھیجتا ہوں

یہ مجھ پہ خاص کرم ہے کہ نعت کہنے لگا
وہ یوں کہ حرفِ ردف سے درود بھیجتا ہوں

خدا کی حمد تو قربت سے متّصل ہے مگر
فراق و ہجر کے لف سے درود بھیجتا ہوں

رگوں میں اذنِ خدا سےتھرک رہا ہے الاپ
میں اک خیال کے دف سے درود بھیجتا ہوں

مدینے حاضری لگتی ہے پیش گاہِ رسول
جب اپنے دل کے نجف سے درود بھیجتا ہوں

مجھے روا ہی نہیں کچھ مگر شکستِ انا
نگہ الگ ہے کلف سے، درود بھیجتا ہوں

مری متاعِ تخیل پہ اک نگاہ کہ میں
ابو تراب کی صف سے دورد بھیجتا ہوں



کنیزِ  فاطمہ زہرا سلام بھیجتی ہے
سومیں بھی ماں کی طرف سےدرودبھیجتا ہوں

دعا کا طالب!۔۔

عقیل ملک۔۔۔

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...