لفظوں کا آج میں #رقص لایا ہوں
دریچہِ دل کا میں اک #عکس لایا ہوں
دریچہِ دل کا میں اک #عکس لایا ہوں
نظر اُٹھا کے دیکھ لو منظور نظر کو
پیشِ خدمت ٹوٹا ہُوا #شخص لایا ہوں
پیشِ خدمت ٹوٹا ہُوا #شخص لایا ہوں
رسوا تو ہوں گے یہ جان کر بھی میں
خواب توقعات کے #برعکس لایا ہوں
خواب توقعات کے #برعکس لایا ہوں
پانی سے پانی پر تو پانی لکھ لیا ہوگا
میں #سمندر کو مقیدِ قفس لایا ہوں
میں #سمندر کو مقیدِ قفس لایا ہوں
خوش نما صورت پہ خود کو وار دیتے ہیں
میں بہک کر بھی قابو میں #نفس لایا ہوں
میں بہک کر بھی قابو میں #نفس لایا ہوں
#جہاں رچا بسا ہوں تری یاد میں اتنا
کہ اپنی غزلوں میں تیرا لمس لایا ہوں
کہ اپنی غزلوں میں تیرا لمس لایا ہوں
No comments:
Post a Comment