Monday, 14 May 2018

نظر اُٹھا کے دیکھ لو منظور نظر کو پیشِ خدمت ٹوٹا ہُوا #شخص لایا ہوں


لفظوں کا آج میں #رقص لایا ہوں
دریچہِ دل کا میں اک #عکس لایا ہوں
نظر اُٹھا کے دیکھ لو منظور نظر کو
پیشِ خدمت ٹوٹا ہُوا #شخص لایا ہوں
رسوا تو ہوں گے یہ جان کر بھی میں
خواب توقعات کے #برعکس لایا ہوں
پانی سے پانی پر تو پانی لکھ لیا ہوگا
میں #سمندر کو مقیدِ قفس لایا ہوں
خوش نما صورت پہ خود کو وار دیتے ہیں
میں بہک کر بھی قابو میں #نفس لایا ہوں
#جہاں رچا بسا ہوں تری یاد میں اتنا
کہ اپنی غزلوں میں تیرا لمس لایا ہوں

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...