Monday, 14 May 2018

مناؤ جشن مے نوشی، بکھیرو زلف مے خانہ عبادت سے تو ساغر دہر کے شیطان جلتے ہیں



تیری دنیا میں یارب زیست کے سامان جلتے ہیں
فریب زندگی کی آگ میں انسان جلتے ہیں
دلوں میں عظمت توحید کے دیپک فسردہ ہیں
جبینوں پر ریا وکبر کے فرمان جلتے ہیں
حوادث رقص فرما ہے،، قیامت مسکراتی ہے
سنا ہے ناخدا کے نام سے طوفان چلتے ہیں
شگوفے جھولتے ہیں اس چمن میں بھوک کے جھولے
بہاروں میں نشیمن تو بہر عنوان جلتے ہیں
کہیں پازیب کی چھن چھن میں مجبوری تڑپتی ہے
ریا دم توڑ دیتی ہے سنہرے دان جلتے ہیں
مناؤ جشن مے نوشی، بکھیرو زلف مے خانہ
عبادت سے تو ساغر دہر کے شیطان جلتے ہیں

No comments:

Post a Comment

میں اس کو جوڑنے بیٹھا تھا خود بھی ٹوٹ گیا جو ایک شخص مجھے پارہ پارہ ہاتھ لگا

 میں بجھ گیا تو اچانک تمہارا ہاتھ لگا میں جل اُٹھوں گا قسم سے دوبارہ ہاتھ لگا  غریقِ چشمِ فسوں ساز مکت ہوتے نہیں   میں پورا ڈوب گیا تو کنارہ...